ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / سرسی : بنڈل گرام پنچایت حدود کے مضافات کی خستہ حالت: آزادی کے 75سال بعد بھی عوام بنیادی سہولیات سے محروم

سرسی : بنڈل گرام پنچایت حدود کے مضافات کی خستہ حالت: آزادی کے 75سال بعد بھی عوام بنیادی سہولیات سے محروم

Tue, 13 Dec 2022 20:14:59    S.O. News Service

سرسی:13؍ دسمبر(ایس اؤ نیوز ) مغربی گھاٹ کے دامن میں واقع بنڈل گرام پنچایت حدود میں واقع مضافات زیادہ تر خستہ حالت ہیں،آزادی کے 75برسوں بعد بھی  عوام بنیادی سہولیات کےلئے بھی ترس گئے ہیں۔نہ اسپتال، نہ اسکول اور نہ ہی سڑکیں میسر ہیں۔ 

بنڈل گرام پنچایت حدود میں 6مضاف ہیں ۔620گھر ہیں اور کل 4500کی آبادی رہائش پذیر ہے۔ ہیبرے ، بُگڑی ، ہوسور، دیوی منے ، بڈگی ، بنڈل نامی مضافات گرام پنچایت کے حدود میں شامل ہیں۔ ان میں سے ہیبری مضاف ریاست بھر میں دوسری سب سے بڑی روینیودیہات مانی جاتی ہے۔ لیکن عوام کا کہنا ہےکہ اس مضاف میں ایسا کوئی ترقی کاکام نہیں ہواہے جس کی نشان  دہی کی جاسکے۔ تعلقہ کے سرحد پر واقع بُگڑی  مضاف سمیت بنڈل گرام پنچایت حدود کے عوام علاج کے لئے کم سے کم 35کلومیٹر دور کا سفر طئے کرتے ہوئے ریوناکٹا پرائمری ہیلتھ سنٹر پہنچنا مجبوری ہے۔ عوام صحت عامہ کی سہولیات سے محروم ہیں۔راگی ہوسلی کے کرشنا مراٹھی عوام کا دکھڑا سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ  بنڈل گرام پنچایت جغرافیائی طورپر وسیع ہونے کے باوجود ایک اسپتال تک نہیں ہے۔ علاقے میں زیادہ تر  مزدور ہیں بیمار ہونے پر یوں ہی تڑپتے رہتے ہیں۔ ایڈگارو، منڈگار، جڈی ، کیسن منے سمیت کئی مضافات میں ضروری سڑکیں ، برجوں کا انتظام نہیں ہونے سے عوام مشکلات میں دن گزار رہے ہیں، حالات اتنے سنگین ہیں کہ بعض دفعہ بارش کے موسم میں ان مضافات کا باہر سے تعلق ٹوٹ جاتاہے۔ راگی ہوسلی سے قریب 7کلومیٹر دوری پر جنگل کے درمیان واقع منڈگار جیسے مضافات کے لئے  کچے راستے ہیں۔

گرام پنچایت ممبر دیوراج مراٹھی افسوس کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ آزادی کے 75سال بعد بھی بنڈل گرا م پنچایت حدود والےکسی ایک مضاف میں آدھاکلومیٹر اچھا راستہ تک  نہیں ہے۔ شرل گدے ، ہوسکیرے، ہیبرے ، ہوسور، توٹد گدے ، ایمے منے ، مللی کے مین روڈ ابھی تک تارکول دیکھے ہی نہیں۔ بنڈل کی اسکول بھی خستہ حالت میں ہے۔ انہی حالات کے چلتے عوامی زندگی میں کوئی سدھا رنہیں ہونے پر بیزارگی کا اظہارکیا۔

اس کے برعکس گرام پنچایت کی صدر سمنگلا نائک کہتی ہیں نریگا منصوبے کے تحت اسکول میدان کی درستی ، ڈیجیٹل لائبریری کاقیام سمیت کئی ایک ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ چند مقامات پر حکومت کے تعاون سے برجوں کی تعمیر بھی ہورہی ہے۔ خود کار گروپس کی تشکیل دیتےہوئے خواتین کی خود مختاری پر زور دینےوالےکام ہونےکی بات کہی۔ رہائشی اسکیموں کے تحت گھروں کی تقسیم میں فوریسٹ اتی کرم داروں کو ترجیح دی جارہی ہے۔ چونکہ اس علاقے میں اتی کرم دار زیادہ ہیں اسی لئےانہیں موقع فراہم  کیاجارہاہے۔


Share: